top of page
Search

خفیہ پیار .......

  • Writer: succsess life
    succsess life
  • Oct 5, 2023
  • 20 min read

آج تم کالج دیر کیوں آیی میں کب سے تمہارا انتظار کر رہا تھا الویش نے کرسٹن سے کہا

گھر پر کچھ کام تھا اس وجہ سے دیر آیی میں کرسٹن نے کہا . چلو کلاس میں الویش نے کہا . الویش کرسٹن سے پیار کرتا ہے اور کرسٹن بھی الویش سے پیار کرتی ہے یہ بات کسی کو نہیں پتا رہتی ہے الویش اپنے دوست میں سے کسی کو نہیں بتاتا ہے اور کرسٹن بھی اپنی سیہلی کو الویش کے بارے میں کچھ نہیں بتاتی ہے . کالج کی چھٹی ہوتی ہے الویش کرسٹن کے پاس آتا ہے . مجھے تم سے ملنا ہے پڑھائی کرنی ہے تمارے ساتھ اور ہم بات بھی کر لیں گے الویش نے کہا . ٹھیک ہے لیکن کہاں ملنا ہے جگہ بتا دو تم مجھے میں آ جاؤنگی میرا موبائل خراب ہے تم مجھے کیسے بتاؤ گے کہ مجھے کہاں آنا ہے کرسٹن نے کہا الویش سے . جہاں ہم ملتے ہے ریسٹورنٹ میں وہاں آ جانا تم اور ٣ بجے آنا اور کالے کپڑے میں آنا کیونکی تم کالے کپڑے میں بہت خوبصورت لگتی ہو الویش نے کرسٹن سے کہا . ٹھیک ہے میری جان میں کالے کپڑے میں آؤنگی اچّھا میں گھر جاتی ہو ہم ملتے ہے دوپہر میں کرسٹن نے کہا اور چلی جاتی ہے گھر. الویش بہت دیر سے کرسٹن کا انتظار کرتا ہے پھر کرسٹن آتی ہے کالے کپڑے میں الویش کی نظر نہیں ہٹتی ہے کرسٹن سے بار بار الویش کرسٹن کو دیکھتا ہے . بس کرو تم تم پڑھنے آے ہونا کے مجھے دیکھنے آے ہو تم ہم پڑھائی شروع کرتے ہے میرے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے کرسٹن نے کہا. آج دل نہیں کر رہا ہے پڑھنے کا بس میرا من کر رہا ہے تمہے دیکھنے کا ڈر لگتا ہے تمھ کھو نہ دو تم صرف میری ہو میں بہت پیار کرتا ہو تم سے الویش نے کہا . میں بھی تم سے بہت پیار کرتی ہو مجھے بھی صرف تمہارے ساتھ رہنا ہے ہمیشہ کرسٹن نے کہا . الویش کرسٹن کو تحفہ دیتا ہے اور ساتھ میں چوکلیٹ بھی دیتا ہے کرسٹن تحفہ لیتی ہے . یہ سب کیوں لیے تم کرسٹن نے کہا .

تم اپنا وقت مجھے دی اور میرے بولنے پر تم نے یہ کالا کپڑا پہن کے آئ تم میرے لئے ایک تحفہ ہے اور تمہارے لئے جو میں لایا ہو وہ تحفہ ہے تحفہ کھول کے دیکھو الویش نے کہا .

کرسٹن تحفہ کھولتی ہے ایک مہنگا موبائل رہتی ہے کرسٹن دیکھ کے خوش ہوتی ہے . تم میرے موبائل لایے ہو کیا ضرورت اتنا مہنگا موبائل دینے کی کرسٹن نے کہا . مجھے تم سے بات کرنا رہتا ہے اتنے دن سے تمہاری موبائل بند ہے تو میں تم سے بات نہیں کر پاتا ہو میں نے اسلئے موبائل کے ہم بات کرے الویش نے کہا . تم میرا کتنا خیال رکھتے ہو تم مجھے سے کتنی محبّت کرتے ہو کرسٹن نے کہا . ہم پڑھتے ہے بات نہیں کرتے ہے الویش نے کہا .

الویش اور کرسٹن دونوں پڑھائی کرتے ہے .

ایک دن آج کرسٹن کا جنم دن ہے سب لوگ کرسٹن کو جنم دن کی مبارک باد دیتے ہے .

کرسٹن الویش کا انتظار کرتی ہے لیکن الویش آج کالج نہیں آتا ہے اور کرسٹن الویش کو بہت فون کرتی ہے لیکن الویش ایک بھی فون نہیں اٹھاتا ہے .

رات میں کرسٹن اپنے سارے کالج دوست کو اپنے گھر پارٹی کے لئے بلاتی ہے سب لوگ آتے ہے لیکن الویش نہیں آتا ہے کرسٹن بہت انتظار کرتی ہے سب سے پوچھتی ہے کے الویش کہاں ہے لیکن الویش کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں پتا رہتا ہے

لیکن الویش نہیں آتا ہے اور سب مزہ کرتے ہے کرسٹن کو بہت غصّہ آتا ہے پارٹی ختم ہو جاتی ہے سب اپنے اپنے گھر چلے جاتے ہے کرسٹن کو غصّہ آتا ہے اور کرسٹن اپنے روم میں رہتی ہے تبھی کرسٹن کا فون بجتا ہے کرسٹن اپنا فون اٹھاتی ہے .

ہیلو تم مجھے اب فون کر رہے ہو جب سب کچھ ہو گیا تم میرا ذرا بھی خیال نہیں آیا آج میرا جنم دن تھا سب ہے تھے کالج کے دوست لیکن تم نہیں آے تھے کتنا فون کی لیکن تم نے ایک فون نہیں اٹھاے کرسٹن نے کہا .

کل تم مجھے سے رات کے ٩ بجے جہاں ملتے ہے وہ ریسٹورنٹ میں ملنے آنا یاد سے آنا تم الویش نے کرسٹن سے کہا اور فون کٹ کر دیتا ہے

دوسرے دن الویش کالج نہیں آتا ہے رات میں کرسٹن اچّھے سے تیار ہو کے الویش سے ملنے جاتی ہے ریسٹورنٹ پورا ریسٹورنٹ سجایا رہتا ہے اور ہر جگہ کرسٹن کا نام لکھا رہتا ہے کرسٹن دیکھ کے بہت خوش ہوتی ہے .

یہ ہے تمہارا جنم دن کا تحفہ میں نے یہ تحفہ اسلئے دیا کیونکی تم میرے لئے تم خاص ہو اور تمہارے لئے تمہارا جنم دن خاص ہے یہ سب تمہارے لئے ہے اور بھی تحفے باقی ہے تمھ دینا الویش نے کرسٹن سے کہا

تم میرے لئے اتنا سب کرنا چاہتے تھے اسلئے تم کل نہیں آے تھے میرے جنم دن پر تم نے مجھے بہت خوش کر دے مجھے تم پر غصّہ آ رہا تھا لیکن اب پیار آ رہا ہے میری جان میں تم سے پیار بہت کرتی ہو کرسٹن نے کہا .

میری جان میں بھی تم سے بہت پیار کرتا تھا اس لئے تو میں نے تمہارے لئے اتنا سب کچھ کیا مجھے خوشی ہوئے کے تم خوش ہو الویش نے کہا .

دونوں ایک دوسرے کو کیسس کرتے ہے اور گلے ملتے ہے کیک کاٹے ہے اور ساتھ میں ڈانس کرتے ہے بہت مزہ کرتے ہے کرسٹن بہت خوش رہتی ہے کرسٹن کی خوشی سے الویش بھی بہت خوش ہوتا ہے .

الویش کرسٹن کو سونے کا بریسلٹ دیتا ہے اپنے ہاتھ سے کرسٹن کو پہناتا ہے .

کرسٹن کو نہیں پتا رہتا ہے کہ الویش ایک غریب لڑکا ہے .

ایک دن کرسٹن اور الویش ساتھ میں پڑھائی کرتے ہے کالج میں .

تم میرے ساتھ ایکسٹرا کلاس میں ادمیشن لے لو تکے تم ہر مضمون کو اچّھے سے سمجھ جاؤ گے کرسٹن نے کہا . ہاں میں آج اپنی ماں سے بولتا ہو الویش نے کہا .

الویش اپنے گھر جاتا ہے .

ماں مجھے اکسٹرا کلاس میں ادمیشن لینا ہے الویش نے کہا .

بیٹا تجھے پتا ہے کہ ہم کتنی مشکل سے تجھے پڑھا رہے ہے تکے تو اچّھے سے پڑھ کے جاب کرے اور اس غریبی کو تو ختم کر خوشی دے الویش کی ماں نے کہا .

ایک ایسا وقت آتا ہے کے سب بدل جاتا ہے الویش کی خوشی کو آگ لگ جاتی ہے .

ایک لڑکا جس کا نام جورڈن ہے جورڈن الویش کے زندگی میں مشکل لے آتا ہے جورڈن اپنے باپ کے ساتھ الویش کے گھر آتا ہے .

پاپا یہ ہے وہ لڑکا جس نے مجھے سے٢لکھ روپے لیا تھا ادھار پر لیکن ابھی تک اس نے مجھے پیسے واپس نہیں دیا جورڈن نے کہا .

میں دے دونگا آپ کے پیسے آپ میرے گھر پر تماشا نہ کرے مجھے تھوڑا ٹائم دو میں دے دونگا آپ کے پیسے الویش نے کہا .

دیکھو آپ یہ کیا بول رہے ہو میرا بیٹا آپ سے کیوں پیسا لے گا اور اتنی بڑی رقم الویش نہیں لگا اتنا پیسا آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئے ہے الویش کے پاپا نے کہا .

آپ اپنے بیٹے سے پوچھو کہ اس نے میرے بیٹے سے پیسا لیا ہے کے نہیں جورڈن کے پاپا نے کہا الویش کے پاپا سے . آپ نےجورڈن سے پیسہ لیا ہے ہاں اور نہیں میں جواب دو الویش کے پاپا نے الویش سے پوچھ .

ہاں میں نے پیسا لیا تھا لیکن میں نے جورڈن سے وعدہ کیا تھا کے سہی ٹائم پر میں اسکا پیسا لوٹا دونگا الویش نے کہا . الویش کے پاپا الویش کو تھپڑ مارتے ہے الویش کبھی نہیں بتاتا ہے کہ پیسا کیوں لیا تھا .

تم نے میری عزت خراب کر دیا میں نے تجھے اتنی محنت سے پڑھاتا ہو اور تو سب سے پیسے لیتا ہے کس چیز کی کمی ہے الویش میں پورا کرتا ہو تو لوگو سے پیسے مت لیا کر الویش کے پاپا نے کہا .

میرا پیسا آپ دے دو جو آپ کے بیٹے نے میرے بیٹے سے لیا تھا جورڈن کے پاپا الویش کے پاپا سے کہا . نہیں میرے پاس اتنا پیسا نہیں ہے میرا بیٹا نے پیسا لیا ہے تو آپ اس سے ہی پیسا لے اس لڑکے نے مجھے سے پوچھ کر پیسا نہیں لیا تھا تو ہم نہیں دے سکتے ہے پیسا الویش کے پاپا نے کہا

ٹھیک ہے آپ پیسا نہیں دو گے اور بیٹا بھی پیسا نہیں دے گا میرے ہوٹل میں ایک لڑکے کم ہے الویش میرے ہوٹل میں ٦ مہینہ کام کرے یا ابھی میرا پیسا واپسی دے اگر اس نے ٦ مہینہ کام کیا تو میں اس سے پیسا نہیں لونگا جورڈن پاپا نے الویش کے پاپا سے کہا .

ٹھیک ہے الویش کام کرے گا مجھے یقین ہے کہ آپ کا پیسا نہیں دے گا الویش کے پاپا نے کہا .

تم اگلے مہینے سے آنا میرے ہوٹل میں یہ مہینہ ختم ہونے والا ہے جورڈن کے پاپا نے الویش سے کہا .

جورڈن اور جورڈن کے پاپا چلے جاتے ہے .

الویش کے پاپا الویش کو بہت دانٹےہے . الویش کی زندگی بہت بدل جاتی ہے الویش ٦ مہینہ جورڈن کے پاپا کے ہوٹل میں کام کرتا ہے پڑھایی پر دھیان نہیں دیتا تھا

الویش بہت کم ٹائم کرسٹن کو دیتا تھا کرسٹن بہت پریشان رہتی تھی الویش کی وجہ سے جورڈن کے پاپا الویش سے بہت زیادہ ہی کام لیتے تھے اور کبھی باتھروم صاف کرواتے تھے الویش سے کبھی ہوٹل کے روم کی صاف بھی کرواتے تھے .جس دن الویش کے ٦ مہینے پورے ہونے والے تھے اس کے ٢دن پہلے الویش کے کالج میں ریسلٹ کی فہرست لگنے والی تھی .

آج کالج میں ریسلٹ کی فہرست لگنے والی ہے جس کا نام فہرست میں نہیں اس کا مطلب وہ طلبہ فیل ہو گیا ہے سب فہرست دیکھتے ہے کرسٹن کا نام سب سے پہلے رہتا ہے فہرست پر اور کرسٹن الویش کا نام دیکھتی ہے لیکن الویش نہ نام فہرست میں نہیں رہتا ہے .

اس فہرست میں الویش کا نام نہیں ہے اور آج الویش کالج بھی نہیں آیا ہے میں الویش کے بارے میں کس سے پوچھو کے الویش کہاں ہے کرسٹن نے سوچی .

کرسٹن جارڈن کے پاس جاتی ہے بات کرنے کے لئے .

آج الویش کالج نہیں آیا ہے اور الویش کا نام فہرست میں نہیں ہے کرسٹن نے جارڈن سے پوچھ .

الویش امتحان دیتا ہو تو اسکا نام آتا فہرست میں جب ان نے امتحان نہیں دیا تو کیسے نام کیسے آے گا الویش میرے پاپا کے ہوٹل میں کام کرتا ہے ٦ مہینے کے لئے اس نے مجھے سے پیسا لیا تھا اور جب میں نے پیسا منگا تو اسکے پاس پیسا نہیں تھا تو میرے پاپا نے اس کو ٦ کام کرنے کہا ہے یہ میرا پیسا مجھے واپس دے دے جورڈن نے کہا کرسٹن سے .

الویش تم سے کیوں پیسے لے گا؟ وہ تو بہت امیر باپ کا بیٹا ہے الویش کے پاس تو بہت پیسا ہے کرسٹن نے کہا .

ارے تم کو نہیں پتا ہے الویش بہت غریب ہے الویش کے پاس ایک پیسہ نہیں ہے الویش کے پاپا بھی بہت غریب ہے الویش کے پاپا چھوٹی سی نوکری کرتے ہے یہ لوگ بہت غریب ہے جارڈن نے کہا .

تم یہ کیا بول رہے ہو کرسٹن نے کہا .

٢ دن بعد الویش کے ٦ مہینے پورے ہو جائے گے تم خود پوچھ لینا الویش سے اگر میری بات پر یقین نہیں ہے جارڈن نے کہا .

کرسٹن یہ سب سن کے حیران ہو جاتی ہے .

٢ دن بعد آج الویش کے ٦ مہینہ پورے ہو جاتے ہے الویش سب سے ملتا ہے بہت دوست بن جاتے ہے .

آج میرے ٦ مہینے پورے ہو گے آپ کی اجازت ہو تو میں اپنے گھر جاؤ الویش نے جارڈن کے پاپا سے کہا .

ہاں جا سکتے ہو تم نے دل سے ہر کام کیا اور پورا کی ہر کام کو میں تمہارے کام سے بہت خوش ہوا ہو جارڈن کے پاپا نے کہا .

میں آپ کو ایک بات بولنا چاہتا ہو ایک دن ایسا آے گا اس ہوٹل کا مالک میں رہونگا میں آپ سے وعدہ کرتا ہو اس ہوٹل کو میں ایک دن خرید لونگا وعدہ ہے میرا آپ سے اب میں چلتا ہو الویش نے کہا .

الویش گھر جانے سے پہلے کالج میں جاتا ہے کرسٹن سے ملنے لیکن الویش کے کالج جانے سے پہلے کرسٹن جا چکی تھی.

الویش کالج میں سب سے پوچھتا ہے کہ کرسٹن کہاں لیکن کسی کو کچھ نہیں پتا رہتا ہے الویش کا دل ٹوٹ جاتا ہے کالج کے سب طلبہ کو فیلر بول کے چڑھاتے ہے الویش کو بہت غصّہ آتا ہے الویش کو نہیں پتا رہتا ہے کے میں فیل ہو گیا ہو

کیا ہوا بیٹا تو اتنا کیوں رو رہا ہے؟ سب ٹھیک ہے نا بیٹا الویش کی ماں الویش سے پوچھتی ہے .

نہیں ماں کچھ ٹھیک نہیں ہے آج میرا دل ٹوٹ گیا میں فیل ہو گیا جس لڑکی سے میں پیار کرتا تھا اس نے مجھے چھوڑ دی میں ہار گیا اپنے پیار سے الویش نے کہا .

الویش ایسے نہیں ہارتے ہے بیٹا پیار کا مطلب یہ نہیں بیٹا ساتھ رہنا پیار کا مطلب خوشی دینا کیا پتا اس لڑکی کو یہ لگا ہوگا کہ تم اس کو خوش نہیں رکھے گا الویش کی ماں نے کہا .

میں میرا دل اسکے بنا نہیں لگتا ہے میں بہت پیار کرتا ہو اس لڑکی سے الویش نے کہا اپنے ماں سے .

بیٹا جس دن تم کامیاب انسان بن جاؤ گے سب تمہاری غلامی کریں گے بیٹا غریب پیدا ہونا غلطی نہیں ہے غریب بن کے مر جانا ایک غلطی ہے مجھے تم پر بہت یقین ہے الویش کی ماں نے کہا .

ماں میں آپ کا یقین کبھی نہیں توڑونگا میں ایک کامیاب انسان بن کے سب کو دکھاؤنگا وعدہ ہے آپ سے الویش نے ماں سے کہا .

اس لڑکی نے تمھ ہارتے ہوئے دیکھی ہے اب تم اس لڑکی کو جیتے ہوئے دکھاؤ الویش کی ماں نے کہا .

ماں مجھے لگا تھا میں ہار گیا لیکن آپ کی بات نے مجھے ہمّت دی الویش نے کہا اور اپنی ماں کو گلے لگتا ہے .

الویش پھر بھی بہت تلاشتہ ہے کرسٹن کو لیکن الویش کو کرسٹن کے بارے میں کچھ بھی نہیں ملتا ہے کہ کرسٹن کیوں الویش کو چھوڑ کے گی اور کہاں گی کس کے ساتھ گی ایسے بہت سے خیال الویش کے دماغ میں تھا .

الویش سب چیزو کو نظرانداز کر کے اپنی زندگی میں آگے بڑ جاتا ہے بہت محنت کرتا ہے بہت مشکل سے اپنی پڑھایی واپس شروع کرتا ہے اپنی ماں کی بات یاد کر کے خود کو ہمّت دیتا ہے .

٦ سال بعد الویش کے پاس بہت پیسا رہتا ہے الویش امیر آدمی بن جاتا ہے لیکن الویش کے پاپا کا انتقال ہو جاتا ہے الویش اور الویش کی ماں دونوں ساتھ رہتے ہے الویش کرسٹن کو نہیں بھولتا ہے الویش اپنی زندگی میں کسی بھی لڑکی کے لئے جگہ نہیں ہے .

ایک دن الویش اس ہوٹل میں واپس جاتا ہے جس ہوٹل سے الویش کی زندگی بدل گی تھی جورڈن کے پاپا کے ہوٹل میں ہوٹل کی حالت بہت خراب ہے کچھ دن میں ہوٹل بند ہو جائے گا الویش کو دیکھ کے سب حیران ہو جاتے ہے .

میں نے کہا تھا آپ کے ایک دن ایسا اے گا جب میں آپ کے ہوٹل کو خرید لونگا دیکھو آج وہ دن آ گیا الویش نے جورڈن کے پاپا سے کہا .

تم وہی لڑکے ہو جس کے پاس ٢ لکھ روپے نہیں تھے جو میرے ہوٹل میں کام کیا تھا جورڈن کے پاپا نے کہا .

ہاں میں وہی لڑکا ہو اور آج میرے پاس اتنا پیسا ہے کے میں کے ہوٹل خرید سکتا اور میں آپ کو اور آپ کے بیٹے کو بھی خرید سکتا ہو آج میرے پاس اتنا پیسا ہے الویش نے کہا .

الویش ہوٹل کو خرید لیتا ہے .

میں باہر دیش جانے والا ہو میں یہاں نہیں رہونگا تو میں چاہتا ہو کے آپ اپنے گھر پر رہو اور آرام کرو یہ ہوٹل آج سے آپ کا بیٹا سمبھالے گا یہ ہوٹل آپ ہی رہے گا بس جہاں بھی میری ضرورت ہو مجھے بولے میں آپ کی مدد کرونگا مجھے یہ ہوٹل نہیں چاہے میں چاہتا ہو کہ یہ ہوٹل کبھی بند نہ ہو الویش نے جورڈن کے پاپا سے کہا .

مجھے معاف کردو میری میں نے تمھ بہت ستایا ہو میری وجہ سے تم کالج نہیں جا سکتے تھے میں تمھ کالج نہیں جانے دیتا تھا اور تم فیل ہو گے تھے مجھے معاف کردو جورڈن کے پاپا نے کہا الویش سے

آپ کی غلطی سے میں آج اتنا بڑا آدمی بنا اور آپ مجھے سے بڑے ہو تو آپ مجھے سے معافی مت مانگو یہ کیسے سمبھلنا ہے یہ آپ اپنے بیٹے کو بتاؤ کسی بھی چیز کی ضرورت ہو مجھے ضرور بتانا آپ اب میں چلتا ھو آپ اپنا خیال رکھنا الویش نے کہا جورڈن کے پاپا سے .

الویش نیوزلنڈ چلا جاتا ہے الویش اب نیوزلنڈ میں رہ گا اپنی ماں کے ساتھ رہتا ہے .

الویش جس آفس میں کام کرتا ہے وہاں سب الویش کی بہت عزت کرتے ہے اور الویش آفس کی طرف سے ہی نیوزلنڈ جاتا ہے .

الویش آفس میں سب کا اچّھا دوست بن جاتا ہے الویش سب لوگ سے بہت عزت سے بات کرتا ہے سب لوگ الویش کو پسند کرتے ہے .

الویش کا ایک دوست بن جاتا ہے کرسٹن کے بعد الویش نے کسی سے بھی دوستی نہیں رکھا سب دوست کو چھوڑ دیتا ہے کرسٹن کے جانے کے بعد یہ الویش کا پہلا دوست ہے جس کو الویش اپنا بھائی بھی سمجھتا ہے .

الویش اور مارٹن دونوں بہت مستی کرتے ہے دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خوش رہتے ساتھ میں کام کرتے ہے بہت باتیں کرتے ہے .

ایک دن دونوں آفس کے کنٹین میں کوفی پی رہے تھے مارٹن اور الویش .

ایک بات تیرے سے پوچھو میں بہت دن سے میرے دل میں ایک سوال ہے تیرے لئے تو میں پوچھ سکتا ہو مارٹن نے الویش سے کہا .

تیرے پاس اتنا پیسا ہے اتنا اچّھا گھر ہے گاڑی ہے پھر بھی تیری شادی نہیں ہوئے ایسا کیوں آج تک تجھے کوئی لڑکی پسند نہیں آیی مارٹن نے الویش سے کہا .

بات پیسے کی نہیں ہے بات نصیب کی ہے میں جس لڑکی کو پسند کرتا تھا ان لڑکی نے مجھے چھوڑ دیا اس لئے مجھے شادی نہیں کرنا ہے الویش نے کہا .

آج کے زمانے میں کوئی بھی انسان کسی کے لئے نہیں روکتا ہے کیا پتا جس لڑکی سے تو محبّت کرتا ہے اس لڑکی نے بھی شادی کر لی ہوگی تو اس لڑکی کے لئے روکا ہے لیکن وہ لڑکی تیرے لئے نہیں رکی ہوگی وہ لڑکی اپنی زندگی میں خوش ہوگی مارٹن نے کہا الویش سے .

میں اپنے دل سے اس لڑکی کا خیال نہیں نکل پتا ہو الویش نے کہا مارٹن سے .

کسی ایک کے چلے جانے سے یہ دنیا نہیں روکتی ہے تو کوئی اچّھی لڑکی دیکھ کے شادی کر لے سمجھا مارٹن نے کہا .

تو بتا اپنی زندگی کے بارے میں تیری زندگی کیسی تھی اور آج کیسی ہو گی ہے تیری زندگی الویش نے مارٹن سے پوچھا .میری بیوی کو میں ٣ سال پہلے ملا تھا میری بیوی میرے پیچھے پڑی تھی ٣سال میں وہ اپنے پیار کا اظہار کرتی تھی لیکن میں نے کوئی جواب نہیں دیتا تھا پھر مجھے بھی پیار ہونے لگا ہم ١سال ساتھ گھومے مزہ کرے ایک دوسرے کو سمجھے پھر ہم ١سال بعد شادی کر لئے اب ہم بہت خوش ہے میری بیوی مجھے سے بہت پیار کرتی ہے مارٹن نے الویش سے کہا .

بہت قسمت والا ہے تو جس سے محبت کی اس لڑکی سے شادی کر لی بہت کم لوگ ہے جن کو محبّت ملتی ہے کچھ لوگ ہی اپنی محبّت کی جنگ جیت پاتے ہے الویش نے کہا .

کسی گھر آنا میری بیوی سے ملنے ہم سب ساتھ میں کھانا کھاییں گے مارٹن نے کہا الویش سے .

ہاں آؤنگا تیرے گھر پر الویش نے کہا مارٹن سے .

ایک دن مارٹن بہت خوش رہتا ہے مارٹن آفس میں کیک اور مٹھایی لاتا ہے سب لوگ کو کھلاتا ہے آج رات میں میرے گھر پر آنا میرے گھر پر تم سب کی دعوت ہے سب کو بولتا ہے

آج کس بات کی خوشی ہے تجھے سب کو کیوں دعوت دے رہا ہے تو آج کوئی خاص دن ہے تیرے لئے الویش نے مارٹن سے پوچھا .

میری بیوی پرگنٹ ہے میں بہت جلد پاپا بن جاؤنگا اس بات کی مجھے خوشی ہے مارٹن نے کہا الویش سے .

یہ تو بہت خوشی کی بات ہے میں آج تیرے گھر ضرور آؤنگا الویش نے کہا مارٹن سے .

الویش اور مارٹن ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہے دونوں بہت خوش رہتے ہے .

آفس کے لوگ مارٹن کے گھر آتے ہے سب لوگ کے ہاتھ میں ایک تحفہ رہتا ہے لیکن الویش کوئی تحفہ نہیں لاتا ہے بنا توہفے کے الویش پارٹی میں آ جاتا ہے.

الویش تو نے میری میری بیوی کے لئے کوئی تحفہ نہیں لیا ہے نا تو میرے بہت اچّھا دوست ہے مارٹن نے کہا الویش سے .مجھے معاف کرنا مجھے نہیں سمجھا کے تیری بیوی کے لئے کیا لو ؟تو روک میں جلدی سے کچھ خرید کے لاتا ہو تیری بیوی کے لئے الویش نے کہا مارٹن سے .

الویش جلدی جاتا ہے مارٹن کی بیوی کو لئے کچھ لانے الویش کو نہیں سمجھتا ہے کہ مارٹن کی بیوی کے لئے کیا لو الویش چاکلیٹ لے کر آتا ہے .

سب لوگ پارٹی میں مزہ کرتے ہے الویش جوس پیتا ہے کچھ وقت بعد مارٹن کی بیوی آتی ہے الویش مارٹن کی بیوی کو دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے الویش کے ہاتھ سے جوس کا گلاس گر جاتا ہے .

کیا ہوا الویش ؟تو ٹھیک ہے نا مارٹن نے پوچھا الویش سے

ہاں میں بلکل ٹھیک ہو میرے ہاتھ سے جوس کا گلاس گر گیا مجھے معاف کر دے الویش نے مارٹن سے کہا .

الویش مارٹن کی بیوی کو دیکھ لیتا ہے لیکن مارٹن کی بیوی الویش کو نہیں دیکھ پاتی ہے مارٹن کی بیوی مہمانوں سے بات کرنے میں مصروف رہتی ہے .

چل میرے ساتھ میری بیوی سے بھی مل لے مارٹن نے الویش سے کہا .

یہ ہے میری پیاری اور خوبصورت بیوی جو مجھے سے بہت پیار کرتی ہے اور میں بھی اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا ہو میری بیوی کا نام ہے کرسٹن جو میری دنیا ہے مارٹن نے کہا الویش سے .

یہ ہے میرا سچّھ دوست اسکا نام ہے الویش مارٹن نے کرسٹن سے کہا .

کرسٹن الویش کو دیکھ کے حیران ہو جاتی ہے .

آپ کی بہت تعریف کرتا ہے مارٹن آپ دونوں کا پیار دیکھ کر مجھے بھی پیار پر بھروسہ ہونے لگا الویش نے کہا مارٹن اور کرسٹن سے .

مجھے تم سے مل کے بہت خوشی ہوئے کرسٹن نے الویش سے کہا .

مجھے بھی بہت خوشی ہوئے آپ سے مل کے اتنی خوشی مجھے کبھی نہیں ہوئے تھی الویش نے کہا کرسٹن سے .

الویش بہت دکھی میں آ جاتا ہے الویش کا جو سچچا دوست ہے اسکی بیوی ہی میری ہونے والی بیوی تھی .

الویش کو دیکھ کے کرسٹن بہت گھبرا جاتی ہے کرسٹن کو ایک بات کا ڈر ہو جاتا ہے کہ الویش مارٹن کو سب سچ نا بتا دے .

کرسٹن الویش سے بات کرنے الویش کے پاس جاتی ہے .

تم مارٹن کے ساتھ کام کرتے ہو مجھے نہیں پتا تھا کہ تم مارٹن کے دوست ہو کرسٹن نے کہا الویش سے .

میں مارٹن کے ساتھ کام نہیں کرتا ہو مارٹن میرے ساتھ کام کرتا ہے اور مجھے بھی نہیں پتا تھا کہ میرے دوست کی بیوی کرسٹن ہے الویش نے کہا .

کیا چاہتے ہو تم مجھے سے بدلہ لینے آے ہوں میری زندگی میں مجھے سے دور رہنا میں کسی کی بیوی ہو تم سمجھنے نہ کرسٹن نے الویش سے کہا .

میں جانتا ہو تم کسی کی بیوی ہو تم کتنا پیار کرتی ہو اپنے شوہر سے ویسے بھی مجھے عادت نہیں ہے ایک کھلونے سے باربار کھلنے کی میں ایک کھلونے سے ایک بار ہی کھیلتا ہو الویش نے کہا

تم کتنا بدل گے ہو کرسٹن نے کہا .

کیوں تم اپنا پیار بدل سکتی ہو میں اپنا لہذا نہیں بدل سکتا ہو جو پیار تم مجھے سے کرتی تھی اب وہی پیار تم میرے دوست سے کرتی ہو الویش نے کہا .

میں بھی تم سے بہت پیار کرتی تھی کرسٹن نے کہا الویش .

تم مجھے سے پیار کرتی تھی میں آج بھی کرتی ہو تمہاری طرھ نہیں ہو میں آج تک کسی بھی لڑکی سے شادی کرنے کے بارے میں نہیں سوچا ہو تم نے تو شادی بھی کر لی اب تو تم پرگنینٹ ہو الویش نے کرسٹن سے کہا .

کرسٹن الویش کی بات سن کے دکھی ہو جاتی ہے پھر کرسٹن روم میں چلی جاتی ہے الویش بھی کرسٹن کے پیچھے روم میں چلا جاتا ہے .

تم میرے پیچھے روم میں کیوں آ گے مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی ہے جاؤ یہاں سے تم کرسٹن نے الویش سے کہا .کیوں تم سچ سن کے روم میں آ گیی نا تمھ ڈر ہوگا کے میں مارٹن کو سب سچ نا بتا دو الویش نے کہا .

مجھے کسی بھی بات کا ڈر نہیں ہے سمجھ آی تمھ کرسٹن نے کہا .

مجھے ایک بات پریشان کر رہی ہے جس دن سے تم مجھے چھوڑ کر گی تھی اس دن سے میرے من میں ایک سوال ہے میں پوچھ سکتا ہو تم سے الویش نے کہا .

"کیا سوال ہے،" کرسٹن نے کہا۔

میری ماں نے مجھے سے ایک بات کہا تھا محبت ہی خوشی نہیں ہوتی ہے مجھے لگتا ہے تمہاری خوشی کچھ اور تھی میں جاننا چاہتا ہو وہ خوشی کیا تھی الویش نے کہا

تم نے مجھے پیسوں کے لئے چھوڑ کے گیی تھی تم مجھے سے نہیں میرے دے گے تحفے سے محبّت تھی آج مجھے پتا چل گیا پیسا کیا چیز ہے الویش نے کہا .

تم مجھے سے ایسے سب سوال کیوں کر رہے ہو کرسٹن نے کہا .

میں جو بول رہا ہو وہ سوال نہیں وہ تمہارے دے ہوئے زخم ہے تم نے مجھے پیسے کے لئے چھوڑ دی تھی آج دیکھو میرے پاس اتنا پیسا ہے میں تمھ خرید سکتا ہو ساتھ میں تمہاری ہر خوشی کو بھی خرید سکتا ہو اور تمہاری قسمت بھی خرید سکتا ہو الویش نے کہا .

کرسٹن جانے لگتی ہے الویش کرسٹن کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے کرسٹن اپنا ہاتھ چھوڑاتی تبھی کرسٹن کا بریسلٹ گر جاتا ہے کرسٹن چلی جاتی ہے .

الویش بریسلٹ اٹھاتا ہے وہ بریسلٹ الویش نے دیا تھا کرسٹن کو جنم دن پر دیا تھا .

سب پارٹی میں خوب مزہ کرتے ہے الویش بھی جانے لگتا ہے تبھی مارٹن روک دیتا ہے .

الویش تم ہمہارے گھر پر ہی روک جاؤکل صبح چلے جانا مارٹن نے کہا الویش سے .

نہیں میں تمہارے گھر نہیں روکنا چاہتا ہو میں اپنے گھر جاتا ہو آپ لوگ بھی آرام کر لو بھابھی کا خیال رکھ کرسٹن بہت اچّھی ہے الویش نے کہا مارٹن سے

میں تیرا اچّھا دوست ہو تو آج رات میرے گھر پر روکے گا مارٹن نے کہا .

الویش روک جاتا ہے اگلے صبح سب ساتھ میں بیٹھ کے ناشتہ کرتے ہے .

ایک سوال ہے تم سے مجھے سچ جواب دینا کیونکی میں تیرا دوست ہو مارٹن نے الویش سے کہا .

ہمیشہ تو مجھے سے کوئی نہ کوئی سوال پوچھتا ہے بول کیا سوال ہے تیرا الویش نے مارٹن سے کہا .

میں جانتا ہو تو جس لڑکی سے پیار کرتا ہے اس لڑکی کا نام k سے آتا ہے کیونکی تونے اپنے سینے پر ایک ٹیٹو بنوایا ہے اب تو اس لڑکی کا پورا نام بتادے مجھے مارٹن نے کہا .

تم یہ کیس طرح کے سوال پوچھ رہے ہو الویش کو نہیں بتانا ہوگا تم بار بار ایسے سوال مت کرو کرسٹن نے کہا مارٹن سے .

تم تو اس ایسے بول رہی جیسے صرف تمہارا اکیلے کا نام k سے آتا ہے مجھے نی بتانا ہے کہ اس لڑکی کا کیا نام ہے الویش نے کہا .

الویش اپنا ناشتہ کر کے روم میں چلا جاتا ہے کچھ ٹائم بعد الویش کے پاس کرسٹن جاتی ہے الویش سے بات کرنے .

مجھے ڈر لگتا ہے تم سے ہر وقت میرے ذہین میں ایک ہی خیال آتا ہے کہ تم مارٹن کو سچ بتا دو گے کرسٹن نے الویش سے کہا .

تم فکر مت کرو میں مر جانا کبھی کسی کو پتا نی چلے گا کہ تم اور میں ایک دوسرے کو جانتے ہو مارٹن جس لڑکی کو جاننا چاہتا ھو وہ لڑکی اسکی بیوی ہے الویش نے کہا .

جب تک تم میرے شوہر کے زندگی میں رہو گے تب تک یہ خوف رہے گا کرسٹن نے کہا .

میں جانتا ہو تم مارٹن سے بہت محبت کرتی ہو شاید میری محبّت میں کمی تھی جو مارٹن نے پورا کر دیا میری جگہ میرا دوست ہے الویش نے کہا

پرانی باتوں کا سوچ کے کوئی فایدہ نہیں ہے سب بھول جاؤ تم الویش یہ سوچنا کے ہم کبھی نہیں ملے تھے کرسٹن نے کہا

میں جس دن نے تم سے ملا اس دن تمہاری بہت بڑا دن تھا کیونکی تم اور مارٹن ایک میاں اور بیوی کے بعد نیے والدین بن جاؤ گے میں وعدہ کرتا و جس دن میری جان نکلے گی اس دن تم اپنے بچے کا چہرہ پہلی بار دیکھو گی الویش نے کہا کرسٹن سے

کچھ مہینوں بعد کرسٹن کچھ دن میں ایک بچے کو جنم دینے والی تھی.

ایک دن کرسٹن کے پیٹ میں بہت درد ہوتا ہے مارٹن جلدی سے کرسٹن کو اسپتال لے کر جاتاہے مارٹن بہت پریشان رہتا ہے مارٹن بار بار سوچھتا ہے کرسٹن ٹھیک تو ہو جائے گی نا

کچھ ٹائم بعد ڈاکٹر آتے ہے اور مارٹن کو مبارک باد دیتے ہے کرسٹن کو لڑکا ہوتا ہے .

مارٹن جلدی سے الویش کو فون کرتا ہے .

ہیلو الویش کہاں ہے تو جلدی سے ہسپتال آ جا تجھے کچھ بتانا ہے ایک خوش خبری دینا ہے مارٹن نے الویش سے کہا .

ٹھیک ہے میں جلدی سے آتا ہو ہسپتال الویش نے کہا مارٹن .

کچھ ٹائم بعد مارٹن کی خوش خبری ایک بری خبر بن گیی الویش نے اپنا وعدہ پورا کر دیا .

مارٹن کرسٹن کے پاس آتا ہے اور بہت روتا ہے مارٹن کرسٹن بہت ڈر جاتی مارٹن کو روتے دیکھ کے .

کیا ہوا مارٹن ؟ہمہارے بچے کو کچھ ہو گیا ھمہارا بچا ٹھیک ہے نا تم کیوں رو رہے ہے بولو مارٹن کیا ہوا کرسٹن نے کہا مارٹن سے .

الویش کا کار ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے الویش اب اس دنیا میں نہیں رہا مارٹن نے کہا .

تم یہ کیا بول رہے ہو الویش نہیں مر سکتا ہے تم مجھے سے جھوٹ مت بولو کرسٹن نے کہا .

کرسٹن کو الویش کا وعدہ یاد آتا ہے کرسٹن جلدی سے الویش کے پاس جاتی ہے .

الویش کا جسم دیکھ کے کرسٹن بہت روتی ہے اور گلے لگاتی ہے مارٹن کرسٹن کو دیکھ کے حیران ہو جاتا ہے .

الویش تم ایسے نہیں جا سکتے ہو تم اپنا وعدہ توڑ دو مجھے مت چھوڑ کے جاؤ کیوں تم نے مجھے سے ایسا بدلہ لیے اٹھو الویش تم نہیں مر سکتے ہو کرسٹن نے کہا

الویش نے خودخشی کیا ہے نا مجھے پتا ہے الویش نے خود اپنی جان لیا ہے کرسٹن نے ڈاکٹر سے کہا .

گاڑی چلاتے وقت الویش کو دل کا دورہ ہوا جس سے ان کا کار حادثہ ہوا ڈاکٹر نے کہا .

یہ بریسلٹ الویش کے پاس سے ملا ہے شاید جس لڑکی سے پیار کرتا تھا اس لڑکی کا ہوگا مارٹن نے کرسٹن سے کہا .

مارٹن بریسلٹ کرسٹن کو دیتا ہے .

کرسٹن الویش کے قبر کے پاس جا کر بہت روتی ہے .

میں نے تمھ کبھی نہیں بتا سکی کہ میں تم سے بہت محبّت کرتی ہو تمہاری ماں نے مجھے کہا تھا کہ میں تم سے دور ہو جاؤ تمہاری ماں نے مجھے مانا کریئی تھی کے میں تم سے شادی نہ کرو تب میں نے مارٹن سے شادی کر لی کرسٹن نے کہا .

الویش اپنے محبت خاموشی سے بھول گیا اپنی محبّت ذکر کیا لیکن کبھی اس لڑکی کا نام لے کر بدنام نہیں کیا الویش دنیا سے چلا گیا مارٹن نے اپنے بیٹے کا نام الویش رکھ دیا .

الویش کی ہر جگہ مارٹن نے لے لیا آفس میں اور کرسٹن کی زندگی میں جس دن مارٹن کے بیٹے کا جنم دن مناتے اس دن ایک آنسو سب کی آنکھوں میں رہتا ہے سب لوگ کو ہمیشہ یاد رہے گا الویش .

 
 
 

1 Comment


arzaab666
Jan 23, 2024

Nice


Like
bottom of page