فاصلہ {وہاب & شانایا}
- succsess life
- Mar 12, 2024
- 18 min read
آج مجھے گھر آنے میں وقت لگے گا، آپ آکر مجھے نئی عمارت میں لے جا سکتے ہیں، شانایا کے پاپا نے کہا۔
آج ٹائم کیوں لیں گے آپ کو گھر آنے کیا کوئی کام ہے؟ شانایا نے پاپا سے پوچھا۔
شانایا کے والد نے کہا کہ مجھے زویا میڈم سے ملنا ہے، وہ مجھے عثمان کے خلاف ثبوت دیں گی۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ عثمان لوگ کتنے خطرناک ہیں وہ کسی کو بھی مار سکتے ہیں، شانایا نے کہا۔
مجھے پتا چلا ہے کہ بچہ عثمان بہت خطرناک انسان ہے لیکن عثمان غلط کام کرتا ہے، زویا کے پاس عثمان کے خلاف ثبوت ہیں اور اس ثبوت سے ہم عثمان کو جیل میں ڈال سکتے ہیں، پاپا نے کہا۔
ٹھیک ہے تم زویا سے ملنے جاؤ لیکن دھیان سے جانا اور کچھ ہوا تو مجھے کال کرنا، شانایا نے پاپا سے کہا۔
شانایا کے والد زویا سے ملنے جاتے ہیں۔
کچھ دیر بعد شانایا کے والد نے شانایا کو کال کی اور شانایا فون اٹھاتی ہے۔
کیا ہوا پاپا آپ ٹھیک ہیں نا ؟شانایا نے پاپا سے پوچھا۔
شانایا بیٹا جلدی سے زویا کے گھر آؤ، شانایا کے والد نے کہا۔
شانایا جلدی سے زویا کے گھر جاتی ہے لیکن تب تک سب کچھ ختم ہو چکا ہوتا ہے۔
عثمان نے زویا اور شانایا کے والد کو قتل کر دیا۔
شانایا نے دیکھا کہ زویا اور پاپا کو گولی لگی ہے اور دونوں مر چکے ہیں۔ شانایا پاپا کے لیے بہت روتی ہے۔
پاپا میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں کہ میں عثمان کو نہیں چھوڑوں گی، میں آپ کی موت کا بدلہ ضرور لوں گی، شانایا نے کہا۔
شانایا اپنے باپ کے لیے بہت روتی ہے شانایا کے والد شانایا کے لیے سب کچھ تھے۔
کچھ دنوں کے بعد عثمان کو عدالت جانا ہوتاہے
عثمان نے کہا بیٹا آج مجھے عدالت جانا ہے اور مجھے یقین ہے کہ ہر بار کی طرح ہم یہ کیس بھی جیت جائیں گے اور فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا۔
جی ابا ہم یہ کیس جیت سکتے ہیں، عثمان کے بیٹے نے کہا۔
ایک مسئلہ ہے، ریاض کی ایک بیٹی ہے جس کا نام شانایا ہے، اگر وہ ہمارے خلاف ثبوت دے تو ہم یہ کیس ہار سکتے ہیں، نوکر نے عثمان سے کہا۔
عثمان نے کہا کہ ریاض کی ایک بیٹی ہے اور اب تم مجھے یہ کہہ رہے ہو، کچھ کرو، ہمیں اس لڑکی کو عدالت جانے سے روکنا ہوگا، ورنہ ہم جیل جائیں گے۔
ابا آپ عدالت جائیں، میں اس لڑکی کو عدالت جانے سے روکتا ہوں، مجھے یقین ہے کہ ہم یہ کیس جیت جائیں گے، وہاب نے کہا
شانایا اپنے گھر پر رہتی ہے اور عدالت جانے کی تیاری کرتی ہے۔
پھر وہاب شانایا کے گھر پہنچا۔شانایا وہاب کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔
کون ہو تم میرے گھر کیوں آئیں ہو؟ شانایا نے پوچھا۔
میں زویا میڈم کے ساتھ کام کرتا تھا میں آپ کو کورٹ لیے جانے آیا ہوں وہاب نے کہا۔
ٹھیک ہے، چلو جلدی کرو، مجھے کورٹ جانے میں دیر ہو رہی ہے، شانایا نے کہا۔
تم میری گاڑی میں بیٹھو، میں تمہیں جلدی سے کورٹ لے جاؤں گا، وہاب نے کہا۔
شانایا کو نہیں معلوم کہ جو لڑکا اسے عدالت میں لیے جانے آیا ہے وہ عثمان کا بیٹا ہے۔
شانایا وہاب کے ساتھ چلی جاتی ہے ۔
کچھ دیر بعد شانایا کو لگتا ہے کہ یہ لڑکا اسے عدالت میں نہیں بلکہ کہیں اور لے جا رہا ہے۔
تم کون ہو اور مجھے کہاں لے جا رہے ہو مجھے کورٹ جانے میں دیر ہو رہی ہے مجھے جلدی سے کورٹ لے چلو شانایا نے کہا۔
میں آپ کو کورٹ نہیں لے کر جا رہا ہوں وہاب نے کہا
مجھے جانے دو، مجھے چھوڑ دو، تم مجھ سے کیا چاہتے ہو، تم کون ہو، شانایا نے کہا۔
میں عثمان کا بیٹا ہوں اور میرا نام وہاب ہے، آپ اس وقت تک میرے ساتھ رہیں جب تک کیس کا فیصلہ ہمارے حق میں نہیں ہو جاتا، وہاب نے کہا۔
تم کچھ بھی کر لو، میں تمہارے باپ کو معاف نہیں کروں گی، تمہارے باپ کو نہیں چھوڑوں گی، میں تم سب کو سزا دوں گی، شانایا نے کہا۔
تم کچھ نہیں کر سکتی ہو، وہاب نے کہا۔
وہاب شانایا کو اپنے پرانے گھر لے جاتا ہے جہاں کوئی نہیں رہتا۔پرانے گھر میں بہت اندھیرا ہوتا ہے جس کی وجہ سے شانایا ڈر جاتی ہے۔
ڈرو مت، میں تمہیں اس گھر میں اکیلا نہیں رہنے دوں گا، ورنہ تم بھاگ جاؤ گے، میرا ایک دوست تمہارے ساتھ رہے گا اور تم پر نظر رکھے گا، وہاب نے کہا۔
مجھے جانے دو شانایا نے کہا۔
وہاب نے جا کر شانایا کو کمرے میں بند کر دیا اور شانایا زور سے دروازہ کھٹکھٹاتی ہے،
مجھے یہاں سے نکالو، میں اپنے گھر جانا چاہتی ہوں، مجھے ُچھوڑ دو، تم مجھ سے کیا چاہتے ہو، شانایا زور سے چلائی۔
وہاب اپنے گھر چلا گیا۔
شام کو وہاب اپنے پرانے گھر آتا ہے اور شانایا کے لیے کھانا لاتا ہے۔
وہاب نے شانایا کے کمرے کا دروازہ کھوتا اور دیکھتا ھے شانایا روتی ہے۔
یہ لو تمھارے لیے کھانا اور جوس لایا ھو کھا لو وہاب نے کہا۔
مجھے کچھ نہیں کھانا ہے۔ میں جب تک تم سے بدلہ نہ لے لو مجھ کو سکون نہیں رہے، گا۔ شانایا نے کہا۔
وہاب شانایا کو تھپڑ مارتا ہے۔
چپ رہو!تم کو کھانا ہے تو کھاؤ ورنا مت کھاؤ مجھ کو کچھ فرق نہیں پڑتا ہے سمجھی تم وہاب نے کہا۔
شانایا نہ کچھ کھاتی تھی اور نہ کچھ پتی تھی جس سے شانایا کی طبیعت خراب ہو گی
کیا کریں شانایا کی طبیعت زیادہ خراب ہے ڈاکڑ کے پاس لے جانا ہو گا وہاب کےدوست نے کہا
نہیں ہم اس کو ڈاکٹر کے پاس نہیں لے کر جاںٔیں گے۔ ورنہ یہ بھاگ سکتی ہے ڈاکٹر کو یہاں بُلاتے ہے وہاب نے کہا
ڈاکٹر آتے، ہے اور شانایا کو دیکھ کر جاتے ہیں اور دوا دیتے ہیں۔
وہاب شانایا کے ساتھ پورا دن رہتا تھا بہت خیال رکھتا ہے رات میں شانایا کے ساتھ اُس کا دوست رہتا ہے شانایا پر نظر رکھنے کیلئے
ٹھیک ہے تم اپنا خیال رکھنا میں گھر جا رہا ہوں میرا دوست تمھارے ساتھ رہے گا کوئی بھی چیز کی ضرورت ہو تم فیضان سے بول دینا وہاب نے کہا
وہاب گھر چلا جاتا ہے وہاب اپنا فون شانایا کے کمرے میں بھول جاتا ہے۔
شانایا اپنے روم میں آرام کرتی ہیں تھبی وہاب کا دوست شانایا کے کمر ے میں آتا ہے آرام سے دروازہ کھولتا ہے
کیا ہوا تم میرے کمرے میں کیوں آے ہو؟ شانایا بہت گھبرا کے پھوچھتی ہے
اس گھر میں تم اکیلی میں بھی اکیلا ہو کیوں نہ آج رات بھر ساتھ میں گزارتے ہے فیضان نے کہا
فیضان کی نیت خراب ہو جاتی ہے
تم پاگل ہو تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے نہیں دیکھوں میرے پاس مت آنا میں زور سے چلّوگی شانایا نے کہا
اس گھر میں میرے سوا اور کوئی بھی نہیں ہے میں چاہتا ہو میں جو بولو وہ تم کرو فیضان نے کہا
مجھے سے دور رہو مجھے چھونے کی کوشش بھی مت کرنا سمجھے تم شانایا غصے سے کہا
کیوں کیا کر لو گی؟آگر تم خود سے وہ کرو گی جو میں چاہتا ہو تو ٹھیک ورنہ میں تمھارے ساتھ زبردستی کرونگا فیضان نے کہا
تم میرے قریب مت آنا شانایا نے کہا
آرے! تم تو غصہ ہو گی برا مان گئ فیضان نے کہا
تبھی فیضان شانایا کے قریب جاتا ہے شانایا بھاگنے کی کوشش کرتی ہے فیضان شانایا کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے
کہاں بچ کے جاو گی تمھیں کوئی نہیں بچا سکتا ہے سمجھی تم فیضان نے کہا
وہاب کو یاد آیا کہ میں اپنا فون شانایا کے کمرے میں چھوڑ آیا ہوں۔وہاب جلدی سے اپنے پرانے گھر چلا گیا۔
وہاب اپنے پرانے گھر جاتا ہے اور پھر اسے شانایا کی آواز سنائی دیتی ہے وہ جلدی سے شانایا کے کمرے میں چلا جاتا ہے۔
وہاب دیکھتا ہے فیضان شانایا کا ہاتھ پکڑا رہتا ہے
وہاب نے جلدی سے فیضان کو دھکا دیتا ہے اور تیزی سے فیضان کو تھپڑ مارتا ہے اور شانایا نے جلدی سے وہاب کو گلے لگالی۔ اور بہت روتی ہے
اچھا ہوا تم آگئے ورنہ پتہ نہیں اس لڑکے نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا ہو تا، مجھے اکیلا مت چھوڑنا، شانایا نے کہا۔
تم کیا کر رہیےتھے، میں نے تمہیں یہ سب کرنے کو نہیں کہا، تم میرے دوست نہیں ہو، میرے گھر سے نکل جاؤ، وہاب نے فیضان سے کہا۔
اب مجھے اس گھر میں اکیلا مت چھوڑنا، شانایا نے کہا۔
وہاب نے فیضان کو گھر سے باہر پھینک دیا اور تیزی سے شانایا کو گلے لگا لیا۔
تم مت رونا اب ساتھ ہو میں شانایا، اب میں تمہارے ساتھ رہوں گا، تمہیں بس کچھ دن یہاں رہنا ہے۔ وہاب نے کہا۔
اب سے شانایا اور وہاب میں پیار ہوتا ہے
وہاب اپنا پورا وقت شانایا کے ساتھ گزارتا ہے دونوں میں پیار بڑھنے لاگا اب وہ دن آ گیا کہ شانایا اپنے گھر جانے والی ہیں
وہاب کے ابا آتے ہیں وہاب کے پاس
بیٹا آج ایک پارٹی ہے اور اُس شانایا کو بول دو کہ وہ اپنے گھر جا سکتی ہے کیونکہ کیس کا فیصلہ ہمارے حق میں ہوا ہے اور ہم جیت گئے ہیں وہاب کے پاپا نے کہا
وہاب کو دکھ رہتا ہے کہ شانایا اب اپنے گھر جا رہی ہے اب پتا نہیں کب؟ دونوں دوبارہ ملے گے
ٹھیک ہے میں شانایا سے بول دنگا وہ اپنے گھر جا سکتی ہے وہاب نے کہا
لیکن آج کی پارٹی میں شانایا کو بول دینا کے وہ آ جاے گی عثمان نے کہا
ہاں وہ آ جائے گی آج کی پارٹی میں وہاب نے کہا
وہاب اپنے پرانے گھر جاتا ہے۔
شانایا تم تیار ہو جاؤ یہ کپڑا، پہن لو آج میرے گھر پارٹی تم وہاں جانا پھر اپنے گھر چلی جانا تم اور تم کو تمھارے گھر چھوڑ دنگا وہاب نے کہا
ٹھیک ہے میں یہ کپڑا پہن کر آتی ہو وہاب کو بہت دکھ رہتا ہے کہ شانایا اپنے گھر جا رہی ہے شانایا کو اپنے دل کی بات نہیں بول پاتا ہے کہ کتنا پیار کرتا ہے
جب شانایا وہ کپڑا پہن کر آتی ہیں بہت خوبصورت لگتی ہے وہاب کی نظر نہیں ہٹتی ہے شانایا کے اوپر سے
میں کیسی لگ رہی ہوں؟ شانایا نے پوچھا
بہت خوبصورت لگ رہی تم وہاب نے کہا
چلو پارٹی میں مجھے اپنے گھر بھی جانا ہے شانایا نے کہا
وہاب اور شانایا پارٹی میں چلے جاتے ہیں
پارٹی میں سب شانایا کو دیکھتے ہیں کیونکہ اس پارٹی میں جوان لڑکی نہیں ہوتی ہے بوڑھی عورت ہوتی ہے شانایا کو عجیب لگتا ہے سب کو دیکھ کر سب شانایا کو بہت غور سے دیکھتے ہوئے اس پارٹی میں سب سے زیادہ خوبصورت لگتی ہے شانایا
یہ لوگ اتنے غور سے مجھے کیوں دیکھ رہے ہیں؟ شانایا نے پوچھا
تم آج بہت خوبصورت لگ رہی ہو اس لیے سب تمھیں دیکھ رہے ہیں وہاب نے ہستے ہو کہا
سب پارٹی میں مزا کرتے ہیں سب خوش رہتے ہیں
سب کو سلام، آج یہ پارٹی ایک خوشی کے موقع پر منعقد کی گئی ہے، آج ہم اپنا پرانا گھر بیچ رہے ہیں، آج اس گھر کی نیلامی ہو رہی ہے، عثمان نے کہا۔
1 گھنٹے بعد پتہ چلتا ہے کہ گھر نیلام ہو گیا ہے اور پورا گھر 1 کروڑ 90 لاکھ روپے میں فروخت ہو چکا ہے
وہاب نے شانایا سے کہا کہ آپ جس گھر میں رہتے تھے وہ ایک کروڑ 90 لاکھ روپے میں فروخت ہو چکا ہے۔
بہت اچھا ہے شانایا نے کہا
پارٹی ختم ہوتی ہے اور تمام مہمان اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔
چلو میں تمہیں تمھارے گھر چھوڑ آتا ہو وہاب نے کہا
ہاں چلو مجھے اپنے گھر جلدی جانا ہے رکوں ایک منٹ میں واش روم سے آتی ہو شانایا نے کہا
ہاں! ٹھیک ہے میں گاڑی میں تمھارا انتظار کرتا ہو وہاب نے کہا
وہاب گاڑی میں شانایا کا انتظار کرتا ہے شانایا واش روم سے ہو کے گاڑی کی طرف جاتی ہیں۔ تبھی شانایا کو کوئی پیچھے سے آواز آتی ہے رکوں شانایا مجھے تم سے کچھ کہنا ہے ایک لڑکی نے کہا
آپ کون ؟ مجھے کیوں آواز دیے؟ شانایا نے حیرانی سے اس لڑکی سے پوچھا
میں آپ کو بہت دیر سے اس پارٹی میں دیکھ رہی تھی مجھے آپ سے بات کرنا تھا اس لڑکی نے کہا
میں آپ کو ابھی دیکھی اسے پہلے نہیں دیکھی ہو شانایا نے کہا
آپ اس پارٹی میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی مجھے آپ کی ساںٔن چاہیے اس پیپر پر آپ برا نہ منوں پلیسر دو گی اس لڑکی نے کہا
ٹھیک ہے لیکن کیوں چاہیے؟آپ کو ساںٔن میری شانایا نے کہا
یاد کے طور پر اٹوگراف چاہیے مجھے آپ کی اس پیپر پر لڑکی نے کہا
ٹھیک ہے یہ لو شانایا نے کہا
شانایا ایک پیپر پر ساںٔن دیتی ہے
ہم ایک گلاس جوس پیتے ہیں تم گھر چلی جانا لڑکی نے کہا
ٹھیک ہے شانایا نے کہا
پھر دونوں جوس پیتے ہیں اور شانایا وہاب کی گاڑی کی طرح آنے لگتی ہے تبھی شانایا کو چکر آ جاتا ہے اور شانایا بے ہوش ہو جاتی ہے۔
یار ! یہ لڑکی کہاں رہ گی ویسے مجھے ڈر لگ رہا ہے کیسے؟ اپنے دِل کی بات اس سے کہوں کہ میں کتنا مُحبّت کرتا ہوں وہاب نے کہا
وہاب بہت انتظار کرتا ہے لیکن شانایا نہیں آتی ہے
وہاب گھر میں آتا ہے اور شانایا کو ڈھونڈنے لگتا ہے لیکن شانایا گھر میں نہیں رہتی ہے وہاب اس لڑکی کے پاس جاتا ہے جو شانایا کو جوس پیلاتی ہے
کیا تم شانایا کو دیکھی ہو ؟ بہت خوبصورت لگ رہی تھی وہاب نے پوچھا
ہاں! ابھی وہ گاڑی میں بیٹھ کے چلی گئی اس لڑکی نے کہا
وہاب اس لڑکی کی بات سن کے حیران ہو جاتا ہے کس کے ساتھ شانایا چلی گئی
جب شانایا کو ہوش آتا ہے شانایا دیکھتی کہ وہ کسی کے روم میں رہتی ہے
میں یہاں کیا کر رہی ہو یہ گھر کس کا ہے میں یہاں کیسے آئ مجھے جانے دو؟ شانایا نے چلّا کر کہا
خاموش رہو یہ گھر میرا ہے تمھے میں یہاں لایا ہو اور آج سے تم یہاں رہو گی ایک شخص نے کہا
روم میں بہت اندھیرا ہونے سے شانایا اس شخص کو نہیں دیکھ پاتی ہے پھر اچانک سے روم کی لاںٔٹ چالو ہو جاتی ہے پھر شانایا اس شخص کو دیکھتی ہیں وہ شخص لمبا رنگ گورا سا رہتا ہے شانایا کے پاس آتا ہے
آج پارٹی میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی تم میرا دل آ گیا تم پر اس لیے تم کو میں یہاں لے آیا اس شخص نے کہا
میرا نام ریحان ہاشمی ہے میں نے تم کو 1کڑوڑ 90لاکھ روپے میں خرید لیا ہو ریحان نے کہا
کون ریحان ہاشمی میں کیسی ریحان ہاشمی کو نہیں جانتی ہوں یہ کیا بول رہے ہو میں بک گئی ہو شانایا نے کہا
ہاں آج سے تم میری ساتھ رہو گی ریحان نے کہا
تم پاگل ہو مجھے جانے دو شانایا نے کہا
شانایا بھگنے لگتی ہے تبھی ریحان ہاتھ پکڑ لیتا ہے
کہاں جا رہی ہو میری جان ریحان نے کہا
کیا چاہتے ہو تم شانایا نے کہا
میں نے تمھیں خریدنے کی اتنی بڑی رقم دی ہے اتنی آسانی سے نہیں جانے دونگا سمجھی تم ریحان نے کہا
مجھے کس نے بیچا ہے ؟ شانایا نے پوچھا
وہاب عثمان خان نے تم کو بیچا ہے میرے پاس پیپر ہے جس سے تمھیں یقین ہو جاے گا ریحان نے کہا
لیکن ایسا نہیں ہو سکتا ہے مجھے وہاب کیوں بیچے گااور وہاب نے کہا تھا کہ اس کا پرانا گھر بک گیا ہے شانایا نے کہا
مجھے کچھ نہیں پاتا بس اتنا معلوم ہے تم میرے ساتھ رہو گی بس اب بات ختم ہو گی یہ لو پیپر ریحان نے کہا
شانایا بہت روتی ہے ریحان پیپر دیتا ہے جس پر وہاب کے دستخط رہتی ہے وہاب ایسا کر سکتا ہے شانایا سوچ بھی نہیں سکتی ہے شانایا بہت روتی ہے کہ وہاب نے بیچ دیا
ایک دن ریحان شانایا کے روم میں آتا ہے
مجھے پاتا چلا یے میرے نوکر سے کہ تم کھانا نہیں کھاتی ہو اور نہ روم سے باہر بھی نہیں آتی ہو تم کب خود کو بدلو گی جس طرح تم ہو مجھ بلکل نہیں پسند ہے ریحان نے کہا
میں ہو تو تمھارے ساتھ جیسا تم بولو گے میں ویسا کر تو رہی ہو اب کیا چاہتے ہو تم شانایا نے کہا
ریحان شانایا کو تھپڑ مارتا ہے
مجھے سے فصول کی بات مت کیا کرو سمجھی تم شانایا ریحان نے کہا
شانایا بہت اداس رہتی کیونکہ شانایا کو گھر سے باہر نہیں جانے دیتا ہے شانایا کو دوا بھی ڈاکٹر گھر آکر دیتے تھے شانایا کو بھگنے کا موقع نہیں رہتا ہے ریحان شانایا کو بہت ظلم کرتا ہے شانایا کا دل نہیں لگتا تھا ریحان کے گھر میں ریحان شانایا کو ہر چیز کے لیے رُکتا بهی ہے
چند مہینوں کے بعد شانایا کو بھاگنے کا موقع ملتا ہے اور وہ ریحان کے گھر سے بھاگ جاتی ہے۔
ریحان نے شانایا کو بہت تلاش کیا لیکن شانایا کا کوئی سراغ نہیں ملا تو ریحان عثمان کے گھر چلا گیا۔
میری شانایا کہاں ہے، بتاؤ، شانایا میرے گھر سے بھاگ گئی ہے، ریحان نے عثمان سے پوچھا۔
شانایا تمہاری بیوی ہے، تم شانایا کا خیال رکھنا چاہیے تھا، تمہیں پتہ ہونا چاہیے کہ شانایا کہاں ہے، تم مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو، عثمان نے کہا
شانایا میری بیوی ہے لیکن تمہارے بیٹے کی میری بیوی پر نظر ہے، سمجھےتم ریحان نے کہا۔
خاموش جاو اپنے بیوی کو تلاشوں تم مجھ سے لڑو مت عثمان نے کہا
وہاب کو ریحان فون کرتا ہے
کہاں ہو تم میں تجھے نہیں چھوڑ نگا بتا میری بیوی کہاں ہے ریحان نے غصے سے وہاب سے کہا۔
مجھے نہیں پتا ہے تم مجھے سے کیوں پوچھ رہے ہو وہاب نے ریحان سے پوچھا
میری بیوی بھاگ گئی ہے مجھے یقین ہے تو نے میری بیوی کو بھگوایا ہے میں تجھے نہیں چھوڑنگا ریحان نے کہا
وہاب کو جیسے پتا چلتا ہے ویسے وہاب بھی شانایا کو ڈھونڈنے لگتا ہے وہاب شانایا کے لیے پریشان ہو جاتاہے
وہاب شانایا کو بہت ڈھونڈتا ہے وہاب شانایا کے گھر دیکھتا ہے شانایا کے ہر رشتےداروں کے یہاں دیکھتا ہے ہر گلی ہر سڑک ہر جگہ دیکھاتا ہے لیکِن شانایا کا کچھ بھی پتا نھیں چلتا ہے رات دن وہاب شانایا کی تلاشِ میں رہتا ہے
وہاب رات میں دیر سے گھر آتا ہے وہاب کی ماں وہاب کا انتظار کرتی ہے
بیٹا تم کہاں تھے مجھے کچھ بتایا تھا وہاب کی ماں نے کہا
کیا ہوا سب ٹھیک ہے نا؟ وہاب نے کہا
تمھارے ابّا بول رہے تھے کے شانایا کی گاڑی کا حادثہ ہو گیا جس میں شانایا کی موت ہو گی وہاب کی ماں نے کہا
ایسا نہیں ہو سکتا ہے امّی شانایا نہیں مر نہیں سکتی ہیں وہاب نے کہا
وہاب اگر میری بات پر یقین نہیں ہے تو اپنے ابا سے پوچھ لو تم وہاب کی ماں نے کہا
وہاب جلدی سے اپنے ابا کے روم میں جاتا ہے
امی بول رہے ہیں کہ شانایا کی موت ہو گئی ہے مجھے اس بات پر یقین نہیں ہے وہاب نے کہا
یہ سچ ہے وہاب شانایا کار اکسیڑانٹ میں موت ہو گی پولیس نے لاش ابھی نہیں دیئے ہیں اس گاڑی میں جو سامان تھا بس وہ ہی دیئے ہیں وہاب کے ابا نے کہا
وہاب بہت رویا ہے وہاب کو یقین نہیں آتا ہے کہ شانایا مر چکی ہے شانایا اب کبھی واپس نہیں آ سکتی ہے
ایک دن پولس وہاب کے گھر آتی ہے
یہ لو شانایا کی لاش گاڑی پوری طرح جل چکی تھی اس لیے شانایا کی لاش بھی جل گئی آپ شانایا کی آخری رسومات ادا کر دو پولیس نے کہا
پولیس چلی جاتی ہے
سب مل کے شانایا کی آخری رسومات ادا کرتے ہیں
وہاب شانایا کی یاد میں اپنے پرانے گھر جاتا ہے جس روم میں شانایا تھی اس روم میں جاتا ہے وہاب روم میں جاتے ہی بہت روتا ہے شانایا کی یاد میں تبھی وہاب کو پانی گرنے کی آواز آتی ہے وہاب ڈر جاتا ہے وہاب کو لگتا ہے شاید باتھروم میں کوئی ہے وہاب آرام آرام سے باتھروم کے دروازا جب وہاب دروازا کھولتا تو وہاب دیکھتا ہے باتھروم میں شانایا رہتی ہے وہاب شانایا کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے جلدی سے شانایا کو گلے لگاتا ہے
تم ٹھیک ہو نا میری شانایا وہاب نے کہا
ہاں میں بلکل ٹھیک ہو شانایا نے کہا
وہاب دیکھتا ہے شانایا کے ہاتھ میں چوٹ رہتی ہے
وہاب شانایا کا ہاتھ پکڑ کے بولتا ہے یہ تمھارے ہاتھ کو کیسے چوٹ لگی ؟وہاب نے کہا
یہ چوٹ نے مجھے آزاد کیا ہے شانایا نے کہا
کیا مطلب ؟ وہاب نے حیرانی سے پوچھا
ریحان مجھے گھر سے باہر جانے نہیں دیتا تھا مجھے ہر چیز ہر ضرورت کی چیز مجھے گھر لا کر دیتا تھا مجھے ایک بند روم میں رکھتا تھا جہاں صرف ریحان ہاشمی ہی آسکتا تھا اس لیے میں نے اپنے ہاتھ کو کاٹ لی ریحان جلدی سے ہسپتال لے گیا میں موقع دیکھ کر بھاگ گئی ہسپتال سے شانایا نے کہا
ابا نے کہا تھا کہ تمھارا کار ایکسڑانٹ ہو گیا جس میں تمھاری لاش جل چکی تھی ہم سب مل کر آخری رسومات کئے تھے تو وہ لاش کس کی تھی جو ہمیں ملی تھی وہاب نے کہا
میں ریحان کی گاڑی لی کر وہاں سے بھاگی تھی اور پھر مجھے بھک لگ گی میں ایک ہوٹل میں کھانا کھانے گئ تبھی میری گاڑی چوری ہو گی مجھے لگتا ہے جس نے چوری کیا تھا اس کی لاش ہو گی شانایا نے کہا
کوئی بات نہیں مجھے خوشی ہے تم ٹھیک ہو تم میرے پاس ہو مجھے اب سکون ہے وہاب نے کہا
وہاب شانایا کو گلے لگاتا ہے ۔
تم نے مجھے بیچ دیا تھا ؟ شانایا نے پوچھا
تم پاگل ہو میں تم سے محبت کرتا ہو تم یہ بول رہی ہو میں نے تمھیں بیچ دیا میرے ابا بول نے کہا تھا تم خود ہی خود کو بیچ دیا میں تم سے محبت کرتا ہوں وہاب نے کہا
مجھے ریحان نے پیپر دیا تھا جس میں تمھاری دستخط تھی شانایا نے کہا
یقین کرو میں نے تمھیں نہیں بیچا ہو مجھے نہیں پتہ تم کس پیپر کی بات کر رہی ہو وہاب نے کہا
مجھے پتا لگانا ہے کہ مجھ کس نے بیچا ہے؟ شانایا نے کہا
وہاب اور شانایا پھر سے پیار کرتے ہے دونوں میں محبت بڑھ جاتی ہے ۔لیکن کچھ دن بعد عثمان کو پتا چل جاتا ہے کہ شانایا زندہ ہے اور وہ اپنے پرانے گھر میں ہیں
عثمان ریحان کو فون کرتا ہے ۔
کیسے ہو تم مجھے یقین ہے تم ٹھیک ہو گئے میں جو تمہیں بتانے والا ہو اس سے تم اور ٹھیک ہو جاؤ گے عثمان نے کہا
بولو آپ کو مجھ سے کیا بات کرنا ؟ریحان نے کہا
میرے گھر آؤ تب بتاتا ہو تم کو جلدی گھر آنا عثمان نے کہا
ریحان جلدی سے عثمان کے گھر آتا ہے
بولو کیا بات ہے تم مجھے گھر پر کیوں بلائے ہوں ؟ ریحان نے کہا
یہ لفافہ لو اس میں تمھارا تحفہ ہے عثمان نے کہا
ریحان تحفہ لیتا ہے اور کھولتا ہے اس میں ٹکٹ رہتا ہے
یہ کس چیز کی ٹکٹ ہے ؟ ریحان پوچھتا ہے
تمھاری اور شانایا کی ٹکٹ ہے تم دونوں جاؤ گھومنے عثمان نے کہا
تم میرے ساتھ کس کیسم کا مذاق کر رہے ہو تم مجھے دکھ دے رہے ہو ریحان غصے سے کہا
میرا دوسرا تحفہ یہ ہے تم اپنے گاڑی میں جاؤ دیکھوں ایک تحفہ ہے اور کبھی میرے گھر مت آنا تم سمجھ گئے شانایا کو لے کر دور چلے جانا کھبی مت آنا عثمان نے کہا
ریحان لفافہ لے تا اور گاڑی کی طرف جاتا ہے ریحان دیکھتا ہے کہ شانایا گاڑی میں بے ہوش پڑی ہے
وہاب اپنے گھر آتا ہے
کہاں ہے؟ میری شانایا بولو جواب دو وہاب اپنے آبا سے کہا
اپنے شوہر کے ساتھ ہے وہ تم اس کو بھول تم کس لڑکی کے پیچھے ہو تمھارے لائقِ نہیں ہے عثمان نے کہا
میں اس سے پیار کرتا ہو مجھے پتا ہے آپ نے میری شانایا کو بیچ دیا تھا آپ نے شانایا کو لگتا ہے میں نے یہ سب کِیاہو مجھ سے یہ کہا کہ شانایا نے خود کو پیچا ہے وہاب غصے سے کہا
مجھے اس بارےمیں کوئی بات نہیں کرنی ہے عثمان نے کہا
پھر عثمان چلا جاتا ہے
کچھ دیر بعد ریحان آتا ہے گھر پر وہاب کے وہاب جلدی سے شانایا کے پاس جاتاہے وہاب بہت خوش ہوں جاتاہے شانایا کو دیکھ کر
میں شانایا کو چھوڑ رہا ہوں کیونکہ شانایا پریگنٹ ہے مجھے پتا ہے یہ بچہ تمھارا ہے مجھے یہ لڑکی نہیں چاہیے مجھے میرا بیسا دو 1 کروڑ 90 لاکھ مجھے دو ابھی کے ابھی ریحان نے کہا
میں بہت خوش ہو یہ خبر سن کے وہاب نے کہا
میں تمھارے ساتھ رہنا چاہتی ہو مجھے اس ریحان کے ساتھ نہیں جانا ہے شانایا نے کہا
نہیں تم صرف میرے ساتھ رہو گی میں تمھیں خود سے کبھی دور نہیں جانے دنگا وہاب نے کہا
وہاب شانایا کو گلے لگاتا ہے کچھ دیر بعد وہاب شانایا کو دھکّا مارتا ہے جس سے شانایا گر جاتی ہے
یہ کیا کیِا تم نے شانایا نے کہا
تمھیں کیا لگتا ہے میں تم سے پیار کرتا ہوں کچھ پیار نہیں کرتا ہوں میری تو شادی بھی ہوئی ہے میں صرف اپنی بیوی سے محبت کرتا ہوں میں نے تمھارا استعمال کیا ہو میں نے تمھیں بیچ دیا تھا تمہیں لگا کہ میرے آبا تمھیں بیچے ہیں تمھارے ساتھ سب کچھ کیا تاکہ میں تمھارے قریب آسکوں میں نے تمھارے آبا کو مارا ہو تمھارے آبا اور زویا کو بتا چل گیا تھا ہم لڑکیوں کو بچتے ہیں میں تمھ کو بیچ دیا میں نے تمھاری طرح کئ لڑکیوں کو بیچا ہو پیار میں پھنسا کر تم ہی سب سے زیادہ قیمت میں فروخت ہوئی ہو سب کو لگتا ہے اس کہانی میں ہیرو ہو لیکن نہیں میں تمھارا دوشمن ہو میں نے تمھارے کو بیچنا تمھیں اس طرح گرا دیکھ کر سکون مل رہا ہے وہاب نے کہا
ریحان شانایا کے پاس آتا ہے اور اس کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے شانایا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھڑے ہو جاتی ہے اور وہاب دیکھ کر حیران ہو جاتاہے
تم کو کیا لگتا ہے کہ صرف تم کھیل سکتے ہو ہم نہیں تمہیں لگتا ہے کہ تم جیت گئے غلط سوچ رہے ہو تم تمھارے باپ نے زویا کو مار ڈالے شانایا نے کہا
اس لیے ہم نے تمھاری بیوی کو نشانہ بنایا ریحان نے کہا
میں تمھارے کو ہر چیز جھوٹ بولی لیکن کار حادثہ جھوٹ نہیں تھا کار حادثہ ہوا تھا اس میں جو لڑکی تھی جس کو تمھارے گھر والے شانایا سمجھ لیں تھ وہ تمھاری بیوی مریم وہاب خان تھی شانایا نے کہا
تم نے میری بیوی کو مار ڈالا اس نے کیا کیِا تھا وہاب نے کہا
ارے! اس نے کیا کیِا تھا اس رات اس مجھے جوس دیا تھا جس کو پی کر میں بے ہوش ہو گئی تھی وہ بھی اس کھیل میں شامل تھی اب تمھارے باپ نشانہ بنایا ہے شانایا نے کہا
تم اب کچھ نہیں کروں گی وہاب نے کہا
کیوں تکلیف ہوئی کسی اپنے کو کھو کر ایسا دکھ ہمیں بھی ہؤا تھا شانایا نے کہا
اب تمھارے باپ کو نشانہ بنایا ہے تم نے میری بیوی کی جان لیں تو ہم نے تمھاری بیوی کی جان لے لیں ریحان نے کہا
اب عثمان کو ہم نے نشانہ بنایا ہے شانایا نے کہا
تبھی آیک نوکر آتا ہے
صاحب پرانے گھر میں آگ لگ گئی ہے نوکر نے کہا
کیسے آگ لگ گئی ؟ وہاب نے کہا
پتا نہیں لیکن بڑے صاحب پرانے گھر پر گئے تھے نوکر نے کہا
وہاب شانایا کو دیکھنے لگتا ہے
مجھے اس طرح مت دیکھو شانایا نے کہا
کیا ملا تمھیں وہاب نے کہا
سکون ملا تم نے بھی تو میرے ابا کی جان لے لیں تھے تم پوچھو گے نہیں کہ آگ لگی کیسے شانایا نے کہا
کیسے لگی آگ ؟ وہاب نے کہا
میں نے پورے گھر میں شراب گرا دیا شراب آگ لگانے میں مدد کرتی ہے عثمان کو سگریٹ پینے کی عادت ہے جو سگریٹ پیتا ہے اس کو بجھانے کے لئے پیر کا استعمال کرتے ہیں عثمان نے سگریٹ بجھانے کے لئے زمین پر گرایا اور آگ لگ گئی شانایا نے کہا
تبھی پولیس آجاتی ہے
وہاب عثمان خان کو گرفتار کرنے آۓ ہیں پولیس نے کہا
کیوں میں نے کیا کیِا ؟ وہاب نے کہا
تمھارے خلاف ثبوت ملا ہے تم لڑکیوں کو بچتے ہو پولیس نے کہا
پولیس وہاب کو لے کر جانے لگتے ہیں تبھی شانایا وہاب کے قریب آتی ہے
تمھیں رِہائی میں بھی موت ملے گی اب مجھے سکون مل گیا تمھاری طرف سے ہر چیز کھیل تھا لیکن میں نے محبت پورے دل سے کی تھی شانایا نے کہا
پولیس وہاب کو لے جاتی ہے کچھ وقت کے بعد وہاب کی ماں اس دکھ کو برداشت نہیں کر پاتی ہے خودکشی کر لیتی ہے وہاب سب کچھ ختم ہو گیا اور شانایا بہت خوشی سے رہنے لگتی ہے لیکن خیال آج بھی آتے ہے وہاب کے شانایا کو۔۔۔۔۔



Comments